بنگلورو ،13؍اگست(ایس او نیوز)چامراج پیٹ اسمبلی حلقہ کے حدود میں بروہت بنگلور مہانگر پالیکے(بی بی ایم پی) وارڈس کی ازسر نو حد بندی کے خلاف دائر عرضی کے تعلق سے ریاستی ہائی کورٹ نے ریاستی انتخابی کمیشن،بی بی ایم پی کمشنر کو نوٹس جاری کی ہے اور حکومت کو ہدایت دی ہے کہ16اگست تک وارڈس سطح پر ریزرویشن فہرست کو قطعیت نہ دے۔
چامراج پیٹ اسمبلی حلقہ کے وارڈس کی از سر نو درجہ بندی میں امتیاز برتنے کا الزام عائد کر تے ہو ئے اڈوکیٹ اسماعیل ذبیح اللہ کی جانب سے داخل عرضی پر سماعت کر تے ہو ئے جسٹس ہیمنت چندن گوڈا نے ایک ہدایت دی اور عرضی پر سماعت16اگست تک ملتوی کی۔ سماعت کے دوران عرضی گزاروں کے وکلا ء نے کہا کہ بی بی ایم پی وارڈس کی از سر حد بندی غیر سائنسی طریقہ سے کی گئی ہے۔ وارڈس کی آبادی کے تعلق سے بھی امتیاز برتا گیا ہے، اس لئے وارڈس کی ازسر نو حد بندی کے نوٹی فکیشن کو رد کیا جائے۔
انہوں نے گزارش کی کہ عرضی پر کارروائی مکمل ہونے تک بی بی ایم پی وارڈس کی ریزرویشن فہرست پر بھی اسٹے جاری کیا جائے،وکلاء کی گزارش پر بنچ نے کہا کہ پہلی سماعت کے دوران ہی کو ئی عبوری حکم جاری نہیں کیاجاسکتا،حکومت،ریاستی انتخابی کمیشن اور بی بی ایم پی کی جرح کے بعد ہی کو ئی فیصلہ کیا جا سکے گا۔
عرضی گزاروں نے بتا یا کہ گووند راج نگر،پدمانا بھا نگر اسمبلی حلقہ جات کے حدود میں فی وارڈ3-0 ہزار کی آبادی کو مختص کیا گیا ہے اور وارڈس کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے،لیکن چامراج پیٹ اسمبلی حلقہ حدود میں 39ہزار کی آبادی کو مختص کیا گیا ہے۔انہوں نے بتا یا کہ پہلے یہاں 7وارڈس تھے،اب کے آر مارکیٹ وارڈ کو رد کر کے وارڈس کی تعداد 6کر دی گئی ہے۔ عرضی گزاروں نے کے آر مارکیٹ وارڈ کو دوبارہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران پدمانابھ نگر،شانتی نگر اور بی ٹی ایم لے آؤٹ اسمبلی حلقہ جات کے بی بی ایم پی وارڈس کی ازسر نو حد بندی کے خلاف بھی ہائی کورٹ میں تکرار عرضی داخل کی گئی ہے۔